جمعرات 1 اکتوبر 2026 - 02:32
قرآنِ کریم عالمی سطح پر مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، حجۃ الاسلام شیخ محمد یوسف عابدی

حوزہ / حوزہ علمیہ قم کے استاد حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد یوسف عابدی نے صحیح تلاوت، قرآن سے انس، تدبر اور تعلیماتِ الٰہی پر عمل کو انسانی سعادت کا ذریعہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزۂ علمیہ قم میں مجمعُ القرّاء بلتستان، شعبۂ قم، کے زیرِ اہتمام صوت و لحنِ قرآنی کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس سے حوزۂ علمیہ قم کے استاد حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد یوسف عابدی نے خطاب کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں قرآنِ کریم کے بلند و بالا مقام، درست اور خوبصورت تلاوت کی اہمیت، قرآن سے انس و محبت، آیاتِ الٰہی میں تدبر اور تعلیماتِ قرآن کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی۔

قرآنِ کریم؛ انسانی زندگی کی سعادت کا سرچشمہ

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد یوسف عابدی نے اپنے خطاب کے آغاز میں آیت اللہ سید حسن نصر اللہؒ اور اسلامی مقاومت کے شہداء کے ایامِ شہادت پر تعزیت و تسلیت پیش کی اور راہِ حق و مقاومت کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے قرآنِ کریم اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کے راستے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اسلامی روایات میں قرآنِ کریم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا: خوبصورت اور عمدہ آواز کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت انتہائی اہم ہے، تاہم تلاوتِ قرآن صرف الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ اسے قرآن سے انس، فہم، تدبر اور کلامِ الٰہی پر عمل کا ذریعہ بننا چاہیے۔

انہوں نے معصومین علیہم السلام کی روایات کی روشنی میں انسانی زندگی کے تین مراحل، یعنی دنیا، برزخ اور قیامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انسان اگر ان مراحل میں سعادت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے قرآنِ کریم کے ساتھ اپنا تعلق تین بنیادی شعبوں میں مضبوط کرنا ہوگا:

تعلیمِ قرآن، تلاوتِ قرآن اور عملِ قرآن

ان کے مطابق قرآنِ کریم اس وقت انسانی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے جب انسان محض تلاوت تک محدود نہ رہے بلکہ قرآن کے فہم، تدبر اور اس کی تعلیمات پر عمل کی منزل تک پہنچے۔

قرآنِ کریم؛ دلوں کی شفا اور بہترین رہنما

استاد عابدی نے قرآنِ کریم کو انسان کے لیے ہدایت، شفا اور روحانی و معنوی علاج کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: اگر انسان قرآن کو سیکھے، درست تلاوت کرے، اس کی آیات میں تدبر کرے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائے تو قرآنِ کریم اس کی زندگی کا بہترین رہنما بن سکتا ہے۔

انہوں نے بعض اسلامی معاشروں کی موجودہ صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ قرآنِ کریم کی عظمت و مقام کے باوجود آج بھی بہت سے مسلمان صحیح تلاوتِ قرآن اور حتیٰ کہ نماز کی درست قراءت سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا: قرآنی ثقافت کو فروغ دینا، صحیح قراءت کی تعلیم دینا اور نئی نسل کو قرآنِ کریم سے جوڑنا اسلامی معاشروں کی ایک اہم اور فوری ضرورت ہے۔

پاکستان اور برصغیر میں قرّاء کی تربیت کی ضرورت

حجۃ الاسلام والمسلمین عابدی کی گفتگو کا ایک اہم محور برصغیر، بالخصوص پاکستان میں قرّاء کی تربیت اور تلاوتِ قرآن کی ثقافت کو فروغ دینا تھا۔

انہوں نے کہا: قرآنی معاشرے کو ایسے باصلاحیت قرّاء کی ایک نسل کی ضرورت ہے جو تلاوتِ قرآن کے اصولوں سے مکمل طور پر واقف ہوں۔ اس مقصد کے لیے قرآنی سرگرمیوں اور تربیتی پروگراموں کو مزید سنجیدگی، تسلسل اور عزم کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مجمعُ القرّاء بلتستان، شعبۂ قم کی جانب سے قرآنِ کریم کی ثقافت کے فروغ، قرّاء کی تعلیم و تربیت اور قرآنی پروگراموں کے انعقاد کے سلسلے میں انجام دی جانے والی کوششوں کو قابلِ قدر اور قابلِ تحسین قرار دیا۔

خادمانِ قرآن کی خدمات کو خراجِ تحسین

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد یوسف عابدی نے مجمعُ القرّاء بلتستان کے مؤسس، استاد اور بین الاقوامی قاری حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رضوی، مجمع کے رئیس حجۃ الاسلام والمسلمین سید فضل شاہ رضوی، ان کے رفقاء اور ادارے کے فعال کارکنان کی قرآنی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے قرآنِ کریم کی خدمت کے راستے میں ان کی جدوجہد پر شکریہ اور قدردانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: قرآن کے احیاء کی راہ میں اٹھایا جانے والا قدم درحقیقت مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کے احیاء کی راہ میں بھی ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے حاضرین پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے خادموں اور قرآنی سرگرمیوں میں فعال افراد کی حوصلہ افزائی اور حمایت کریں۔

قرآنِ کریم؛ مسلمانوں کی عزت اور وحدت کا محور

خطاب کے ایک اور اہم حصے میں استاد عابدی نے امتِ اسلامی کی عزت و وحدت میں قرآنِ کریم کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے امامانِ انقلاب (رہ) کے قرآنِ کریم اور معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کے تعارف و ترویج میں کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس تحریک نے قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ثقافت کو دوبارہ نمایاں کرنے، مسلمانوں کے درمیان قرآنی معارف کے فروغ اور اسلامی وحدت و ہمدلی کے لیے فضا ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا: مسلمانوں کی عزت کا راستہ قرآنِ کریم کی طرف واپسی اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے جبکہ قرآنِ کریم عالمی سطح پر مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق جو فرد یا معاشرہ تعلیم، تلاوت، تدبر اور قرآنی ثقافت کی نشر و اشاعت کے میدان میں قدم اٹھاتا ہے، وہ قرآن کی برکتوں اور آثار سے بہرہ مند ہوتا ہے اور تاریخ قرآن کے خادموں کی عزت و سربلندی کی متعدد مثالیں پیش کرتی ہے۔

قرآنِ کریم؛ اصلاح و تربیت کا بنیادی محور

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد یوسف عابدی کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ اسلامی معاشرہ عزت، اصلاح اور حقیقی سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لیے قرآنِ کریم کی طرف باشعور اور عملی واپسی کا محتاج ہے؛ ایسی واپسی جو تعلیم اور تلاوت سے آغاز ہو، تدبر کے ذریعے آگے بڑھے اور مسلمانوں کے عمل و کردار اور طرزِ زندگی میں جلوہ گر ہو۔

انہوں نے کہا: صوت و لحنِ قرآنی کی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد محض ایک فنی مہارت سکھانے تک محدود نہیں بلکہ قرآن سے انس پیدا کرنے، قراءت کی اصلاح، قرّاء کی تربیت اور قرآنی ثقافت کے احیاء کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha